اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، شکاگو یونیورسٹی کے سیاسیات کے پروفیسر جان مرشایمر نے ایران کے ساتھ حالیہ جنگ کے نتیجے میں امریکی اسلحہ ذخائر کی تشویشناک صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے جنگ ختم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ جنگ شروع ہونے سے پہلے امریکی جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے سربراہ جنرل کین نے ڈونلڈ ٹرمپ کو خبردار کیا تھا کہ ایران کے ساتھ جنگ کے لیے امریکہ کے پاس محدود مقدار میں گولہ بارود اور ہتھیار موجود ہیں اور واشنگٹن طویل جنگ جاری نہیں رکھ سکتا۔
اس معروف امریکی استاد اور تجزیہ کار نے موجودہ صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ ایک طویل جنگ میں پھنس چکا ہے اور یہ بات حیران کن ہے کہ اس نے اپنے جدید ہتھیاروں کے ذخائر کس قدر تیزی سے ختم کر دیے ہیں، جبکہ ان ہتھیاروں کو دوبارہ ذخیرہ کرنا آسان نہیں ہوگا۔
مرشایمر نے ایران کے خلاف حملوں کے نتیجے میں امریکی فضائی دفاعی میزائلوں میں نمایاں کمی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ نے 80 فیصد تھاڈ اور 65 فیصد پیٹریاٹ میزائل استعمال کر لیے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ حملہ آور میزائلوں، یعنی اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال ہونے والے اسمارٹ میزائلوں میں امریکہ نے 50 فیصد ٹاما ہاک میزائل استعمال کیے ہیں، جبکہ میڈیا رپورٹس کے مطابق تقریباً تمام اے ٹی اے سی ایم ایس (ATACMS) اور پی آر ایس ایم (PrSM) میزائل بھی استعمال کیے جا چکے ہیں۔
مرشایمر نے امریکی اسلحہ ذخائر میں کمی سے متعلق حالیہ خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ نے اپنے جدید ہتھیاروں کے ذخیرے کو شدید نقصان پہنچایا ہے، حالانکہ مشرقی ایشیا، یوکرین اور دیگر علاقوں میں اسے ان ہتھیاروں کی حقیقی ضرورت ہے۔
امریکی میزائل انٹرسیپٹرز کے ذخائر میں کمی سے متعلق حالیہ رپورٹس کے افشا ہونے اور اس پر ٹرمپ کے غصے کا ذکر کرتے ہوئے مرشایمر نے کہا کہ ان کے خیال میں یہ معلومات ایسے شخص نے افشا کی ہیں جو اصل صورتحال سے واقف ہے۔ ان کا مقصد بڑی حد تک یہ واضح پیغام دینا تھا کہ ایران کے ساتھ جنگ ختم ہونی چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس جنگ میں کسی بھی قسم کی کشیدگی میں اضافہ امریکی جدید ہتھیاروں کے ذخائر کو مزید نقصان پہنچائے بغیر ممکن نہیں ہوگا۔
رپورٹ کے مطابق تجزیوں میں ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف حالیہ کشیدگی بڑھانے سے گریز کی ایک بڑی وجہ امریکی اسلحہ ذخائر میں کمی کو قرار دیا جا رہا ہے۔ تاہم امریکی صدر، جو طویل عرصے سے خود کو ایران کے خلاف جنگ کا فاتح قرار دیتے رہے ہیں، نے ان معلومات کے افشا ہونے کے طریقہ کار کی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے اور معلومات افشا کرنے والوں کو کارروائی کی دھمکی بھی دی ہے۔
آپ کا تبصرہ